ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو:  تعلیمی نصاب تنازعہ: این ایس یو آئی نے کیا احتجاج  - جلائی گئیں آرایس ایس کی خاکی چڈیاں -

بنگلورو:  تعلیمی نصاب تنازعہ: این ایس یو آئی نے کیا احتجاج  - جلائی گئیں آرایس ایس کی خاکی چڈیاں -

Thu, 02 Jun 2022 20:33:14    S.O. News Service

لنگایت سوامیوں کے متحدہ محاذ نے دیا ریاست گیر احتجاج کا الٹی میٹم - انٹرنیشنل بسوا میوزیم ایکسپرٹ کمیٹی سے 7 مصنفین نے دیا استعفیٰ 

بنگلورو،2؍ جون (ایس او نیوز) تعلیمی نصاب میں ترمیم کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پر ایک طرف ریاستی حکومت کان دھرنے کے لئے تیار نہیں ہے مگر دوسری طرف یہ تنازعہ دن بدن گہرا اور مخالف کا سلسلہ تیز ہوتا جا رہا ہے ۔ اسی کے ساتھ نصابی کتب میں شامل اپنے تخلیقات کی اجازت واپس لینے والے مصنفین اور شاعروں کی فہرست بھی لمبی ہوتی جا رہی ہے ۔ تازہ ترین اقدام میں انٹرنیشنل بسوا میوزیم ایکسپرٹ کمیٹی کی رکنیت سے 7 مصنفین نے استعفیٰ بھی دے دیا ہے۔ 
    
جلائی گئیں خاکی چڈیاں : کل ٹمکورو میں وزیر تعلیم بی سی ناگیش کے گھر کے سامنے کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے نصابی ترمیم کے خلاف اپنی آواز بلند کرنے کے لئے احتجاجی مظاہرا منعقد کیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس احتجاج کے دوران مظاہرین نے آر ایس ایس کا یونیفارم کا حصہ کہی جانے والی خاکی چڈیاں نذر آتش کیں ۔ مبینہ طور پر مظاہرین نے وزیر تعلیم کے گھر میں گھسنے کی بھی کوشش کی ۔ 
    
ہوم منسٹر اور چیف منسٹر کا ردعمل : ہوم منسٹر جیانیندر اراگا نے وزیر تعلیم کے گھر پہنچ کر حالات کا حائزہ لینے کے بعد اپنا  ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا :" یہ خبر ملی ہے  کہ ناگیش کے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ ریاست میں اس طرح کی غنڈہ گردی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ اس معاملہ میں پولیس نے 15 لوگوں کو حراست میں لیا اور دو موٹر گاڑیاں بھی ضبط کرلیں ۔"
    
دوسری طرف وزیر اعلیٰ بسوا راج بومئی نے کہا :" شر پسندوں کے خلاف سخت  کارروائی کی جائے گی ۔" بی جے پی نیشنل جنرل سیکریٹری سی ٹی روی نے کہا : " اس کے لئے کانگریس پارٹی ذمہ دار ہے ۔ وہ ریاست میں غنڈہ گردی کو ہوا دے رہی ہے ۔"
    
لنگایت سوامیوں کے محاذ نے دیا الٹی میٹم : لنگایت مٹھوں کے سوامیوں پر مشتمل متحدہ محاذ کے صدر بالکی ہیرے مٹھ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر بسالنگا نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ بسوا راج بومئی کے نام بھیجے گئے مراسلہ میں  حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ نصابی کتب کی ترمیم میں جو غلطیاں کی گئی ہیں اور بسونّا اور لنگایت فرقہ کے بارے میں جھوٹ پر مبنی تبصرے شامل کیے گئے ہیں، انہیں فوری طور پر درست کرکے ان کتابوں کو دوبارہ شائع کیا جائے ورنہ پوری ریاست میں احتجاجات کا سلسلہ تیز کیا جائے گا ۔
    
بسوا میوزیم کمیٹی سے استعفیٰ : انٹرنیشنل بسوا میوزیم کمیٹی میں شامل 7 مصنفین نے اپنی رکنیت سے استعفیٰ دیا - انہوں نے روہیت چکراتیرتھا کی قیادت میں کمیٹی کے ذریعے کی گئی نصابی ترمیم میں تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے ، بسونّا کے تعلق سے نامناسب تبصرے شامل کرنے کا الزام لگاتے  ہوئے کہا کہ بسونّا کے بارے میں حقائق برخلاف باتیں درج کیے جانے کی بات سامنے آنے کے باوجود ریاستی حکومت ان کتابوں کو شائع کررہی ہے ۔  اس مسئلہ پر بطور احتجاج کمیٹی سے مستعفی ہونے والوں میں ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر ایس ایم جامدار، مصنف ڈاکٹر گروپاد مریگُدّی ، ڈاکٹر ہنوماکشی گوگی ، ڈاکٹر بسواراج سبرد ، ڈاکٹر رمضان درگاہ ، شنکر دیونور اور ڈاکٹر ٹی آر چندرا شیکھر کے نام شامل ہیں ۔ 
    
واپس لی گئی مضامین کی اجازت: یاد رہے کہ دو چار دن قبل کئی مشہور و معروف مصنفین اور شاعروں نے نصاب سے اپنے مضامین اور کلام خارج کرنے کی مانگ کی تھی اور پہلے دی گئی اجازت واپس لی تھی ۔
    
اب تازہ معاملہ میں شمالی کینرا ہوناور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر ایچ ایس انوپما نے وزیر تعلیم بی سی ناگیش کو مراسلہ بھیجتے ہوئے ساتویں جماعت کے لئے فرسٹ لینگویج کنڑا کی کتاب میں "ساوتری بائی پھولے " اور ساتویں جماعت کے لئے تھرڈ لینگویج کنڑا کی کتاب میں شامل  "نینودینّا منا" عنوان سے مضامین شامل کرنے کے لئے اپنی طرف سے دی گئی اجازت واپس لینے کا اعلان کیا ہے ۔ انوپما نے کہا کہ چاہے تعلیم سے متعلق ہو یا پھر آئینے جیسے دل والے بچوں کے مستقبل سے متعلق ہو، جن لوگوں کو ذرا بھی فکر اور دلچسپی نہیں ہے ان لوگوں نے نصابی کتابوں میں جو افراتفری پیدا کی ہے اس سے بہت دکھ ہوا ہے ۔ آج کے دور میں جس بھائی چارگی کے ساتھ بچوں کو جینا سیکھنا ہے اس مقصد کو اہمیت دینے والی موجودہ ترمیم شدہ کتابوں میں نہیں ہے ۔ صرف ایک ہی رنگ میں رنگنے اور ایک ہی سمت میں چلنے کی میں حمایت نہیں کر سکتی ۔ اس وجہ سے میں نے اپنے مضامین کے لئے پہلے دی گئی اجازت واپس لی ہے ۔ 
    
اسی طرح ایک اور مصنفہ سرسوتی نے بھی ساتویں جماعت تھرڈ لینگویج کنڑا کتاب میں شامل "نَنّا اَیّا" نامی مضمون خارج کرنے کی مانگ کی ہے ۔ سرسوتی نے کہا کہ نصاب میں ترمیم کے نام پر ریاست میں بھائی چارہ اور امن و امان کو خراب کیا جا رہا ہے ۔ قومی شاعر کوئمپو کی شخصیت کی بے عزتی کی گئی ہے ۔ اس لئے بطور احتجاج میں اپنا مضمون واپس لے رہی ہوں ۔ 
    
رکن پارلیمان سدانند گوڈا کا موقف : مصنفین کی طرف سے اپنے مضامین یا اس کی اجازت واپس لینے کے تعلق سے بی جے پی رکن پارلیمان ڈی وی سدانند گوڈا نے میسورو کے ایک ہوٹل میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر نصابی کتب میں کوئی گڑبڑی ہوئی ہے تو اسے درست کرنے کے لئے ہم تیار ہیں ۔ مصنفین کی طرف سے اپنے مضامین واپس لینے کے لئے حکومت کو مراسلہ بھیجنا اچھی بات نہیں ہے ۔ اس کے بجائے مصنفین کو یہ بتانا چاہیے کہ کس چیز کو درست کیا جانا چاہیے ۔ 
    
وزیر اعلیٰ بومئی کا موقف : اس بیچ اڈپی دورے کے موقع پر منی پال کے ایک ہوٹل میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بسوا راج بومئی نے کہا کہ وزیر تعلیم کی طرف سے 2 جون کو حقائق پر مبنی رپورٹ موصول ہوگی اور اس کے مطابق اگلی کارروائی کی جائے گی ۔ اسی کے ساتھ جن تخلیق کاروں نے نصاب سے اپنی تخلیقات خارج کرنے کے لئے مراسلہ بھیجا ہے ان کے ساتھ  بھی بات چیت کی جائے گی ۔ 

 


Share: